ہجرت — جس رات مدینہ کا راستہ گھیرا ہوا تھا
حوالہ: Sahih al-Bukhari 1, 18, 2048, 3615, 3653, 3892, 3905, 3906, 3932, 3937; Quran 8:30, 9:40
تیرہ سال۔
مکہ میں دعوت کو تیرہ سال ہو چکے تھے، اور ان تیرہ میں سے اکثر سال وہ تھے جن میں ماننے والے پٹتے رہے، بھوکے رہے، اور کچھ دفن بھی ہوئے۔ شروع کے چند لوگ چھپ کر نماز پڑھتے تھے۔ پھر بات کھلی، اور اس کے بعد جو ہوا وہ تاریخ میں لکھا ہے: بلال رضی اللہ عنہ کو تپتی ریت پر لٹایا گیا، سمیہ رضی اللہ عنہا کو قتل کیا گیا، اور بنو ہاشم کو شعبِ ابی طالب میں تین سال تک گھیر کر رکھا گیا — نہ کوئی سودا، نہ کوئی رشتہ، نہ کوئی مدد۔
اس کے بعد کا سال سیرت میں "عام الحزن" — غم کا سال — کہلاتا ہے۔ اسی ایک سال میں خدیجہ رضی اللہ عنہا گزر گئیں، جو پہلے دن سے ساتھ تھیں؛ اور ابو طالب گزر گئے، جو ایمان نہیں لائے مگر جن کی وجہ سے قریش ہاتھ نہیں اٹھا پاتے تھے۔ دونوں سہارے ایک ساتھ چلے گئے۔
یہ تفصیل سیرت کی کتابوں سے ہے — خاص طور پر ابن اسحاق سے — اور مشہور ہے؛ صحیح بخاری میں اسی ترتیب سے نہیں آتی۔ آگے جو آ رہا ہے اس کا زیادہ تر حصہ صحیح بخاری سے ہے، اور ہر جگہ نمبر دیا گیا ہے۔
پھر طائف ہوا۔ اور اس کے بعد حج کے موسم میں ایک کے بعد ایک قبیلے سے بات ہوئی — اور ہر ایک نے انکار کر دیا۔
اور پھر، ایک رات، عقبہ کی گھاٹی میں، یثرب سے آئے کچھ لوگوں نے بیعت کی۔ پہلے سال بارہ آدمی، اگلے سال تہتر۔ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ اس بیعت کے الفاظ خود بیان کرتے ہیں:
ہم نے نبی صلى الله عليه وسلم سے اس بات پر بیعت کی کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے، چوری نہ کریں گے، زنا نہ کریں گے، اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گے، کوئی بہتان نہ گھڑیں گے، اور کسی نیک بات میں نافرمانی نہ کریں گے۔
صحیح بخاری 18 اور 3892 — بیعتِ عقبہ.
اس بیعت میں ایک بات غور طلب ہے: اس میں لڑائی کا ذکر نہیں ہے۔ یہ کردار کی بیعت ہے۔ جس شہر میں ہجرت ہونے جا رہی تھی، اس شہر کے لوگوں سے پہلا وعدہ یہ لیا گیا کہ وہ کیسے انسان بنیں گے۔ کیا بنائیں گے، یہ بعد کی بات تھی۔
اور اس بیعت کے بعد ایک ایک کر کے، چپ چاپ، لوگ نکلنے لگے۔ ایک گھرانہ، پھر دوسرا۔ مکہ خالی ہونے لگا۔